اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، غزہ کی پٹی کے محکمۂ شہری دفاع و امداد نے اعلان کیا ہے کہ غزہ صوبے میں امدادی ٹیموں نے لاپتا افراد کی تلاش کے دوسرے مرحلے کے آغاز سے اب تک ملبے تلے سے 233 شہداء کے جسد نکال لیے ہیں۔
امدادی ادارے کے مطابق، یہ جسد ان 407 لاپتا افراد میں سے برآمد ہوئے ہیں جو اسرائیلی فوج کی جانب سے اپنے مکینوں پر گرائے گئے 20 مکانات کے ملبے تلے دب گئے تھے۔
غزہ کے امدادی ادارے کے مطابق، ملبے سے نکالے گئے شہداء میں 73 بچے اور 106 خواتین بھی شامل ہیں۔
امدادی ٹیمیں محدود وسائل اور دستیاب آلات کے ذریعے مسلسل 51ویں روز مشکل تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس دوران مجموعی طور پر 381 گھنٹے کام کیا جاچکا ہے۔
غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ 11 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی کے اعلان سے لے کر بدھ 26 اگست 2026 تک اسرائیلی حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں مزید 1,303 فلسطینی شہید اور 4,336 زخمی ہوئے ہیں۔
ان شہداء کو شامل کرنے کے بعد 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں شہداء کی مجموعی تعداد 73,438 جبکہ زخمیوں کی تعداد 174,447 ہوگئی ہے۔
اسرائیلی حکومت نے 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کی پٹی کے خلاف جنگ کا آغاز حماس کو ختم کرنے اور اسرائیلی قیدیوں کو واپس لانے کے دو بنیادی اہداف کے ساتھ کیا تھا، تاہم وہ اپنے دونوں مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی اور بالآخر اسے قیدیوں کے تبادلے کے لیے حماس کے ساتھ معاہدے کی طرف جانا پڑا۔
اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے 9 اکتوبر 2025 کو ایک بیان جاری کرکے غزہ میں جنگ کے خاتمے اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر باضابطہ اتفاق کا اعلان کیا۔
اسرائیلی فوج نے بھی 10 اکتوبر 2025 کی دوپہر کو غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کا باضابطہ اعلان کیا، تاہم وہ اب بھی اس معاہدے کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔
امریکی حمایت سے غزہ پر اسرائیلی جارحیت نے فلسطینیوں کی نسل کشی کے علاوہ بڑے پیمانے پر تباہی بھی مچائی ہے۔ اس کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کا 90 فیصد بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوچکا ہے، جبکہ اقوام متحدہ نے ان نقصانات کی تعمیر نو کی لاگت کا تخمینہ تقریباً 70 ارب ڈالر لگایا ہے۔
آپ کا تبصرہ